Subscribe

Theme images by Storman. Powered by Blogger.

About

Top Ad 728x90

Top Ad 728x90

Featured Post Via Labels

Top Ad 728x90

Featured Slides Via Labels

Featured Posts Via Labels

More on

Popular Posts

Popular Posts

Follow us on FB

Wednesday, 31 January 2018

دوغلے رویے آخر کب تک؟

لفظوں کے ہاتھوں میں
آنسوؤں کو پونچھنے کے لیے رومال نہیں

لفظ تو بس ہواؤں میں
بکھر جانے کے لیے ہوتے ہیں

اپنی نظم سے موضوع کا آغازکر رہی ہوں گوکہ یہ نظم مکمل طور پر دینے سے قاصر ہوں مگر یہ چند سطریں بھی موضوع کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں لفظ فقط ہواؤں میں بکھر جاتے ہیں۔ روزمرہ زندگی کی مثال لے لیجیے ایک دن میں ہم بے شمار لفظ کہتے ہیں۔ خواتین کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دن میں بیس ہزار لفظ بولتی ہیں۔ ایک لحاظ سے مردوں کے مقابلے میں تیرہ ہزار الفاظ زیادہ بولتی ہیں، جب کہ مردوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ دن بھر میں تقریباً سات ہزار لفظ ان کے استعمال میں آتے ہیں۔

شاید ہی کبھی ہم نے اس بات کو سوچا ہوگا کہ ہم جو لفظوں کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے ہیں، وہ لفظ توانائی وطاقت کا مظہر ہیں۔ ان کے اندر منفی ومثبت اثر موجود ہے۔ یہ تعمیر بھی کرسکتے ہیں اور تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ لفظ رابطے کا ذریعہ ہیں۔ ہمارے رابطے کس قدر فعال اور مربوط ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہم روزمرہ زندگی میں کس طرح کے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں۔ یہی لفظ ہماری ناکامی اورکامیابی کا وسیلہ بھی بنتے ہیں۔

روزمرہ بولے جانے والے الفاظ آواز و لہروں کے تحرک کا امتزاج ہوتے ہیں۔ لہروں کا یہ تحرک حقائق کو جنم دیتا ہے۔ لفظ ایک لحاظ سے اپنی حقیقت خود تخلیق کرتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں ہمارا ذہن، ان الفاظ کی مدد سے ہماری حقیقت تخلیق کرتا ہے۔ جوگفتگو ہم روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ ویسے ہی ہمارے حالات ان الفاظ کے رخ پر سفر کرنے لگتے ہیں۔ منفی لفظوں کے پاس گہری طاقت ہوتی ہے،کیونکہ لفظ ہمارے تصور، یقین، عقائد یا رویوں کی تشکیل کرتے ہیں ۔ان کی طاقت ہمارے جذباتی رویوں کی مرہون منت ہے ۔ جب ہم یہ لفظ سنتے، کہتے یا پڑھتے ہیں تو ہمارا جذباتی ردعمل سامنے آنے لگتا ہے۔ غمگین سطریں پڑھ کر آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور لطیفے پڑھ کر بے ساختہ ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

کوانٹم فزکس نے بہت پہلے طے کردیا تھا کہ ہر چیز محض توانائی ہے۔ اس توانائی کی مختلف لہریں ہیں۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ زندگی توانائی کا بہاؤ ہے۔ جس میں ہماری سوچ، محسوسات اور تصورات کی لہریں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اب طے کرلیجیے کہ روز مرہ زندگی میں ہم کس طرح کی باتیں سنتے ہیں اور وہ باتیں کس طرح ہماری زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

معلومات کے مختلف ذرائع ہیں۔ جن میں پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا اہمیت کے حامل ہیں۔ اخبارات کی مثال سامنے ہے جن میں سیاسی، معاشرتی اور انفرادی حوالوں سے خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ جن میں اکثریت میں بری خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ جو ہماری سوچ اور ذہن پر ناگوار اثرات مرتب کرتی ہیں۔ وہی خبریں دن بھر ہماری سماجی زندگی میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ ان خبروں کے توسط سے ہم شک، خوف اور بے یقینی کو بانٹتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ فیس بک نے معاشرتی مزاج کو بالکل ہی بدل کے رکھ دیا۔ جس نے انفرادی سوچ اور خودستائشی رویوں کو فروغ دیا۔ جدید تحقیق کے مطابق، تنہائی اور ڈپریشن کا شکار لوگ، زیادہ سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔ موبائل سے سیلفی کا جنون بڑھا۔ یہ جنون لوگوں کی زندگیاں نگلنے لگا۔ جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ذات کی محبت کا جنون ہے۔ زیادہ سیلفی لینے والے افراد کسی نہ کسی احساس محرومی یا عدم توجہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

منفی سوچ اور رویے فقط سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ الیکٹرانک میڈیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ خبریں محض خبروں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ ڈرامائی انداز اختیارکرچکی ہیں۔ جن کا مقصد آگہی دینا کم بلکہ سنسنی خیز لمحوں سے ذہنی افراتفری پیدا کرنے کی کوشش زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ڈرامے کا عنصر روزمرہ زندگی سے ٹیلی وژن اور سیاسی منظرنامے پر صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ معلومات کا ذریعہ کوئی بھی ہو مگر آپ لفظوں کا انتخاب ملاحظہ کیجیے۔ یہ لفظ زیادہ تر شک اور بے یقینی کو جنم دیتے ہیں۔ بی بی سی یا سی این این کے نیوزکاسٹر یا کمپیئرزکو آپ نے یقینی طور پر دیکھا ہوگا۔

ہم کیوں خبروں یا کمپیئرنگ کا بین الاقوامی معیار قائم نہیں رکھ سکتے۔ ویسے تو ہماری زندگی، لباس اور گفتگو جدید دنیا کے مقابلے سے کسی طور کم نہیں ہیں۔ نیوزکاسٹر کا کام خبر دینا ہے ناکہ ڈرامائی انداز اختیار کرنا۔ بالکل اسی طرح اینکرز اور ماڈریٹر کا کردار ہونا چاہیے ۔ اینکرکا مطلب ہے خود اعتمادی اور استحکام عطا کرنا۔ جب کہ ماڈریٹر کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو بحث مباحثے یا گفتگو میں توازن و غیر جانبداری برقرار رکھ سکے۔ جو لوگوں کی رہنمائی کرے یا انھیں صحیح راستہ دکھا سکے۔ ہمارے ٹی وی چینلز کے اینکرز یا ماڈریٹرز لفظی معنی کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ یورپ و امریکا میں میڈیا کے مختلف شعبوں میں مناسب تربیت دی جاتی ہے اور انھیں اپنے شعبے کے حوالے سے باخبر رکھا جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ فنون لطیفہ کے ہر شعبے کی مختلف ضروریات اور ترجیحات ہیں۔ کمپیئرنگ، صدا کاری، خبریں پڑھنا ودیگر شعبے انفرادیت کے حامل ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ہر شعبے کی خاصیت اور خالص پن کو برقرار رکھا جاتا ہے اور اسے مطلب اور تشریح کے حصار سے باہر نہیں آنے دیا جاتا۔ کمپیئر اور نیوز کاسٹرز ادارے کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ انھیں اپنی ذاتی رائے، پسند و ناپسند ظاہر کرنے کا اختیار نہیں نہیں دیا جاتا۔

اداروں کا جھکاؤکسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف کیوں نہ ہو، مگر انھیں غیر جانبداری سے بات کرنی پڑتی ہے،کیونکہ وہاں پر میڈیا پرسن اپنے شعبے سے کمٹڈ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ انھیں لفظوں کے ساتھ چہرے کے تاثرات کو بھی ضابطے میں رکھنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں عوامی سطح پر انھیں ہر مکتبہ فکر کے حامل لوگوں کے جذبات کا احترام کرنا پڑتا ہے۔

میں نے جتنے بھی بحث مباحثے دیکھے ہیں۔ چاہے بی بی سی، سی این این یا باہر کے کسی بھی چینل پر ہوں، ہمیشہ کوئی نہ کوئی حل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی رائے وگفتگو تہذیب کے دائرے کے اندر ہوتی ہے۔ بحث برائے بحث کا رجحان نہیں ملتا اور نہ ہی میزبان، مہمان سے ہتک آمیز گفتگو کرتے ہیں۔ لفظوں کے بعد لب و لہجہ اہمیت رکھتا ہے۔

ہمارے ہاں چیخ کر بات کرنا کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، گفتگو کے دوران ایسے چٹکلے چھوڑے جاتے ہیں کہ اکثر مختلف مکتبہ فکرونظریاتی اختلاف رکھنے والے لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ یہ رویے سطحی اور دور جدید کے تقاضوں سے مبرا ہیں۔ جدید دورکی ضرورت ہے کہ حقیقت پسندانہ اور منطقی رویے اختیار کیے جائیں اور افواہوں کو پھیلانے سے گریز کرناچاہیے۔ جو سماجی زندگی میں انتشار پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔

چاہے صحافت ہو، ابلاغ عامہ یا اخبارات ہوں الفاظ کی حرمت مجروح ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔ آخر ہم اپنی نئی نسل کے سامنے رویوں کی کون سی مثالیں قائم کر رہے ہیں اورکب تک ہم دوغلے رویوں سے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں گے۔

The post دوغلے رویے آخر کب تک؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DSl6ZZ

نیم حکیم خطرہ جان

شکریہ ڈاکٹر شاہد آپ نے ہمیں آئینہ دکھایا۔ ہم بہ حیثیت قوم کتنے آپ کے محتاج ہیں۔ آپ جو سوچیں، جوکہیں وہ خبر ہے، آپ کے اسکرین پر زندہ رہنے کے لیے ہم ایندھن ہے۔ ڈاکٹر شاہد پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہیں نہ جانے کب سے موجود ہیں ۔ وہ روپ بدل بدل کر آتے رہے، طرح طرح کے نقاب اوڑھے، انداز اپنائے ہمیں اپنی طرف اپنے تجربوں اور تبصروں سے مائل بہ کرم کرتے۔ ہم کیا کرتے ہمارے وجود اور لاشعور میں ڈرکچھ اس طرح سے بیٹھا ہوا ہے کہ ہم جسے حقیقت سمجھتے ہیں وہ حقیقت نہیں ہمارے ڈر کا حصہ ہے۔ ہم خوف اور ہذیانیت کا شکار اس طرح سے چل پڑتے ہیں کہ جیسے ہم اتنے لاچار ہوں کہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔

ڈاکٹر شاہد تو ایک بیانیہ ہیں ایک Escape Goat  ہم سب میں شاید ایک ڈاکٹر شاہد موجود ہے۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے یا پھر شاید ہر ایک بات کی ایک حد مقرر ہے وہ چاہے Fake Encounter  ہو یا پھر fake news  ۔ جب دونوں حد سے آگے چلے گئے تو رد عمل بھی اپنی پچھلی روایتیں توڑ چلا ۔ یہ تھی ایک جھلک زندہ قوم ہونے کی۔

صحافت میں ان مصنوعی طریقوں سے چیزوں کو Engineer  کرنا کب تک آخر؟ آخر کب تک !! بہت کچھ بدلا ہے ۔ میں صحافت کے اس شعبے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ عرصہ دراز سے منسلک ہوں ۔ میری پرورش ایک سادھو اورصوفی طرز کے گھر میں ہوئی ہے۔ وکلاء کی تحریک کا زمانہ تھا جنرل مشرف کو ہٹانا تھا اور جمہوریت کو دوبارہ مستحکم کرنا تھا، مگرکیا تھا اس کی بنیادوں میں دائیں بازوکا بیانیہ بسا ہوا تھا۔ ایک ایسا بیانیہ جس کا حقیقت سے تعلق کم ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اینکر شپ عروج پر تھی اور میڈیا پر چینلز کا راج تھا۔ ہر ایک کی نظر ٹی وی چینلز پر مرکوز تھی۔ خبروں اور تجزیوں کا دور تھا ۔ لوگ ڈرامے اور انٹرٹینمنٹ چینلز دیکھنا بھول گئے تھے ۔ جتنی سنسنی پھیلاؤ ، حب الوطنی دکھاؤ اتنی ہی ریٹنگ آپکے چینل کی بڑھتی تھی ، مگر میری اسکولنگ میں حقیقت پسندی تھی۔ ہم نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور چل پڑے یہ سوچ کر یہ پیشہ ہمارے مزاج کا نہیں۔

ڈاکٹر شاہد کی یہ خبر کم از کم دو تین ہفتے تو اسکرین کی زینت بنتی اگر اسٹیٹ بینک کی طرف سے کوئی خبر نہ آتی اور پھر ہمارے چیف جسٹس نے عدالت میں ہی اس خبر کو بند کیا اور اس طرح صحافت کے شعبے میں ایک نئے بیانیے نے جنم لیا کم از کم آیندہ کسی صحافی یا اینکر کی ہمت نہیں ہوگی کہ بغیر تحقیق یا ثبوت کے کسی خبرکو منظر عام پر لائیں اور یہی کچھ ہے نیکو لائے اوسٹو وسکی کے ناول میں کہ ’’لوہا کیسے کندن بنا‘‘ (How the Steel has Tempered )پاکستان کیسے پاکستان بنے گا؟ یہی ہے وہ فلسفہ جو ہمیں سمجھنا ہے۔

جمہوریت رواں دواں ہے اور اس سسٹم کو روکا نہیں جاسکتا یہ اور بات ہے کہ جمہوریت کو جمہوریت سے ہی خطرہ ہے، بالکل اسی طرح سے جس طرح آزاد صحافت کو خود آزاد صحافت سے خطرہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری آزاد عدلیہ کو بھی آزاد عدلیہ سے ہی خطرہ ہو لیکن یو نہی ہمارا سفر رواں ہے پاکستان اور پاکستان بننے کا سفر۔ اس دفعہ اس سفر میں ایک Leap Forward  آیا ہے۔

ہم نے ایسے لوگوں کو منظر عام پر لانا ہے جو اپنے عہدے اور اختیارکا بے جا استعمال کرتے ہیں۔ ہماری تاریخ ایسے ہی لوگوں نے مسخ کی یا ہمیں پھر شاید تاریخ کا ادارک کرنا نہیں آتا ہم تاریخ کو نظریوں میں الجھ کر دیکھتے ہیں۔کبھی کبھار یہ نظریے ہماری آنکھوں میں یرقان اتار دیتے ہیں اور حقیقتیں بھی ہمیں یرقان زدہ نظر آنے لگتیں ہیں ۔ اسی لیے توکسی نے کہا ہے کہ Patriotism is Last Refuge of Scoundrel  اور پھر اس حقیقت میں بہت سے درباری جنم لیتے ہیں جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں۔ کل تک یہ درباری مشرف کے دربار میں تھے اور پھر وکلاء تحریک میں شامل ہوئے، پھر انھوں نے ایک نئی سمت پکڑی۔ حقیقت سے کھیلنا، سنسنی پھیلانا یہاں تک کہ غداری کے لیبل لگانا، مذہبی تعصب پیدا کرنا ان کا شیوا بن گیا۔ یہ اپنی اخلاقیات کا تعین بھی نہ کرسکے اور نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک تھی۔

مان لیجیے جنرل ضیاء الحق نے بہت ترامیم کیں آئین میں، یہ ترامیم بہت سے لوگوں کو مختلف زاویوں میں صحیح نظر بھی آئیں لیکن جنرل ضیاء الحق کا آئین میں یوں ترامیم کرنا بنیادی طور پر جمہوریت کو مسخ کرنا تھا اور ان کے اس سفر میں آج کے دور کے سب بڑے جمہوریت پسند میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔ اس ترتیب سے اگر ہم یہاں تحریر کرتے چلے تو بات دور تلک تک جائے گی۔

اور یہ بھی ذرا مان لیجیے! میاں صاحب کہتے سچ ہیں کہ شیخ مجیب کی اولین خواہش حکومت بنانے کی تھی اور یہ ان کا حق تھا جب کہ یہ ہم تھے جو اس حق کے سامنے رکاوٹ تھے۔

اور ایسی کئی مسخ شدہ باتیں جو ہمارے بیانیے کا حصہ ہیں جو ہمارے روح کو ڈستی ہیں اور جس سے ہماری آیندہ کی راہوں کو گرہ لگ جاتی ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر خندہ پیشانی سے اپنی تاریخ کو درست کرنا ہوگا۔ زینب ہماری تاریخ کے لیے نیا موڑ ہے اور ایسے کئی واقعات ہیں جو ہماری راہوں کو متعین کریں گے۔ کیونکہ اس دفعہ ہم نے ان حقیقتوں کو Forensic  پیمانوں سے پرکھنا ہے۔

جب ڈاکٹر شاہد یہ کہہ رہے تھے کہ عمران کے 80  اکاؤنٹ تھے جب کہ اس کے تیس اکاؤنٹ کا ثبوت وہ کورٹ کے پاس پیش کر رہے ہیں اور پھر اسٹیٹ بینک کے افسران کا بیان، دراصل وہ Forensic Expert  تھے ایک لحاظ سے۔ اور پھر سپریم کورٹ نے JIT  تشکیل دی کہ Forensic view  آسکے۔ خود DNA  کیا ہے۔Forensic report  ہے۔ ہمیں اس طرح سے ایسی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا جس کو Forensic کی آنکھ سے دیکھنے کے عمل کو Historicism  کہا جاتا ہے۔

ہم اپنے بیانیہ کو ان قصیدہ خواہوں، افواہیں پھیلانے والوں اور ہمارے جذبات کو الجھانے والوں کے حوالے نہیں کرسکتے۔

ہمارے ساتھ یہی کچھ ہورہا تھا اور ہورہا ہے۔ حقیقت اور ہوتی ہے افسانہ اور ہوتا ہے۔ ہماری تاریخ بہت خوبصورت ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کو ترتیب دینا ہوگا۔ یہ ہماری آیندہ کی نسلوں پہ اک بہت بڑا احسان ہوگا جو ہم اس طرح سے کرتے جائیں گے۔

The post نیم حکیم خطرہ جان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2Et9SfE

جائیدادوں سے متعلق مسائل

کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور تیزی سے کم ہوتی زمینوں، لینڈ مافیا و بلڈر مافیا اور حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہ و عدم پلاننگ نے کراچی کو مسائل کا گڑھ بنادیا ہے۔ بدامنی، بجلی، پانی، سیوریج، ٹریفک جام کے مسائل شہر میں غیر قانونی بس اڈے، تجاوزات، ٹینکر مافیا اور ٹینکروں کے حادثات میں بلاناغہ کئی زندگیوں کا اتلاف ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔ شہر کا 3 فیصد حصہ دھول اور ایک حصہ کیچڑ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

شہر کے سماجی مسائل میں سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ رہائش کا ہے جو ایک ناگہانی صورت اختیار کرچکا ہے۔ بڑھتے ہوئے خاندانوں میں جائیداد کی وراثت کی تقسیم اور ملک کے دیگر علاقوں سے کراچی کی طرف آبادی کے بہاؤ کی وجہ سے جائیدادوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔ 120 گز کے درمیانے سے مکان کی قیمت بھی ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ چل ہی ہے۔ مکان خریدنا متوسط طبقے کی دسترس سے باہر ہوچکا ہے۔

شہر میں لینڈ و بلڈر مافیا کی شہریوں کو لوٹنے کی سرگرمیاں بھی اپنے عروج پر ہیں جس کے لیے نت نئے طریقے اور ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، مجبور و بے بس شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں، بنگلوز، فلیٹس کے علاوہ بڑے پیمانے پر پورشن بناکر فروخت کرنے کا بے حد منافع بخش کاروبار اپنے عروج پر ہے۔

چھوٹے چھوٹے سے پلاٹوں اور گلیوں میں پورشنز بناکر غیر قانونی طور پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جو سیل ڈیڈ کے ذریعے سب رجسٹراروں کی ملی بھگت سے فروخت کیے جا رہے ہیں ان کی نہ تو سب لیز ہوتی ہے نہ نقشہ، ایسے پورشنز پر نہ تو قرضہ لیا جاسکتا ہے نہ ہی کسی ضمانت میں رکھائے جاسکتے ہیں۔ ایسے تعمیر شدہ پورشنز میں صفائی ستھرائی، مرمت، پانی و سیوریج وغیرہ کا مشترکہ معاملات اور یونین وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے پیچیدہ قسم کے مسائل اور لڑائی جھگڑے جنم لے رہے ہیں۔ بلڈرز اور لینڈ مافیا شہریوں کا بری طرح استحصال کر رہے ہیں، متعلقہ ادارے ان کی سرکوبی کرنے کے بجائے ان کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔

عوام سے کھربوں روپے لوٹ چکے ہیں۔ شہر میں چائنا کٹنگ پلاٹس کے ذریعے ہزاروں پلاٹس کی بندر بانٹ کی گئی، ان کی باقاعدہ دستاویزات جاری کی گئیں، ان پلاٹوں پر کاروباری اور رہائشی سرگرمیاں عروج پر پہنچیں تو عام شہری بھی اس جانب راغب ہوئے، کچھ نے اپنے اثاثے بیچ کر یا قرض لے کر چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا، کچھ غریبوں نے جو رہائش کی سکت نہیں رکھتے تھے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لگا کر سر چھپانے کی جگہ بنائی۔

کئی عشروں سے جاری اور دن بہ دن گمبھیر ہوتے شہری مسائل اور متعلقہ اداروں اور حکومت کی عدم توجہی پر عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بالآخر عدالت عظمیٰ کو نوٹس لینا پڑا، جس سے ارباب اختیار اور متعلقہ اداروں میں کھلبلی مچ گئی۔ عدالت کی جانب سے تشکیل کردہ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری بلدیات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے کہ آبی منصوبوں کے لیے جاری کردہ 150 ارب روپے کی رقم کہاں گئی؟

عدالت عظمیٰ نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات، سرکاری زمینوں پر قبضہ اور رفاہی پلاٹوں کی حیثیت تبدیل کرنے اور چائنا کٹنگ جیسے معاملات پر متعلقہ اداروں کی سرزنش کرتے ہوئے ان کے فوری خاتمے کا حکم دیا تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کے ڈی اے نے بادل ناخواستہ اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا، سیکڑوں شادی گھر گرا دیے گئے، جن شادی گھروں کو کے ڈی اے نے مسمار کیا انھیں ہی دوبارہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مسمار کرکے اپنی کارکردگی کی فہرست میں شامل کرلیا، جواز یہ دیا گیا کہ کے ڈی اے نے انھیں مکمل طور پر مسمار نہیں کیا تھا۔

اتھارٹی کی پولیس نے کچھ مکانات کی منزلیں اور تعمیراتی شٹرنگ کو بھی گرایا، چائنا کٹنگ پر تعمیر کردہ مکانات بھی گرائے گئے، پلاٹ الاٹ کرنے والے اور انھیں بیچ کر مال بنانے والے تو نکل گئے، جن غریبوں نے یہ پلاٹ خرید کر اپنے سر چھپانے کی جگہ بنائی تھی وہ سولی پر لٹکے ہوئے ہیں کہ نہ جانے کب ان کے گھروں کو بھی مسمار کردیا جائے۔

عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود اس قسم کی خبریں متواتر آرہی ہیں کہ شہر میں مرکزی جگہوں پر غیر قانونی تعمیرات کا دھندا اب بھی بلڈر مافیا اور ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے جاری ہے۔ اتھارٹی مبینہ بھاری نذرانوں کے عوض غیر قانونی تعمیرات کے بوگس Completion Certificate جاری کر رہی ہے، جن کے ذریعہ بلڈرز گیس و بجلی کے کنکشن حاصل کر رہے ہیں، اتھارٹی کے ایک ڈی ایس پی نے خود جعلی نقشے اور بوگس کمپلیشن پلان کے ذریعے اپنے گھر پر گیس و بجلی کے کنکشن حاصل کیے، اینٹی کرپشن نے جب مذکورہ مکان کے منظور شدہ نقشے کا ریکارڈ طلب کیا تو انکشاف ہوا کہ اتھارٹی کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی اور حقیقی انہدامی کارروائی نہ ہونے پر اتھارٹی کی جانب سے محکمہ جاتی تادیبی کارروائی کرتے ہوئے 54 اہلکاروں کو محض ایک گریڈ تنزلی یا ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کی سزا دینے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔ ایک خبر یہ ہے کہ اتھارٹی نے 1994ء کے بعد رفاہی پلاٹوں کے تبدیلی استعمال کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈی جی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے رفاہی نوعیت کے ان پلاٹوں سے بلڈنگ پلان کی منظوری دی جائے گی جن کا استعمال اراضی 1994ء سے قبل تبدیل ہوگیا تھا، ان کی منظوری بھی ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کی تجدید سے مشروط ہوگی، اس اعلان سے شہر کی کمرشل و رہائشی تعمیرات مسمار کرنے اور بلیک میلنگ اور رشوت کی ایک نئی راہ استوار ہونے کے امکانات ہیں۔

کراچی کے شہریوں سے جائیداد کی خرید و فروخت کے سلسلے میں جو رجسٹریشن فیس، کیپٹل ویلیویشن ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، گین ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، ٹاؤن ٹیکس وغیرہ لیے جا رہے ہیں ان کی شرح بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جائیدادوں کی قیمتوں کے غیر حقیقت پسندانہ تعین اور ٹیکسوں کی شرح بھی ایک بڑی زیادتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سی قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، سندھ بورڈ آف ریونیو، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تعین کردہ قیمتوں اور مارکیٹ ویلیو میں بڑا فرق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے خریدار ایگریمنٹ میں حقیقی قیمت جب کہ جائیداد کی منتقلی کی دستاویزات میں سرکاری قیمت ظاہر کرنے پر مجبور ہوتا ہے، ورنہ اس کو لاکھوں روپے مزید ادا کرنے پڑتے ہیں۔ خاص طور پر وراثت کی جائیداد میں یہ مشکل درپیش آتی ہے کہ اگر حقیقی قیمت ظاہر کی جائے تو ان کی منتقلی پر لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات آجاتے ہیں جو اس کے بعد ہر منتقلی پر ادا کرنا پڑتے ہیں۔

اگر سرکاری قیمت ظاہر کی جائے تو خدشہ رہتا ہے کہ کہیں ورثا کو جائیداد کی اصل قیمت کے تناسب سے حصہ دینے سے محروم نہ کردیا جائے۔ کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر جائیداد کلیئر کی جا رہی ہیں، حالانکہ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کے تحت اتھارٹی کی ذمے داری ہے کہ وہ بلڈرز کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ لیے بغیر خریداروں کو قبضہ نہ دینے دے۔ خریداروں کو تو علم ہی نہیں ہوتا کہ کمپلیشن سرٹیفکیٹ کیا ہوتا ہے۔ بلڈرز تو قبضہ دے کر نکل چکا ہوتا ہے، 20 یا 30 سال بعد خریدار اس کو کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں۔ یہ سراسر SBCA کی نااہلی، ملی بھگت اور بے رحمی ہے، جس کی سزا بے قصور شہری بھگت رہے ہیں۔

بدقسمتی اور ظلم یہ ہے کہ جب یہ ادارے سو رہے ہوتے ہیں تو اس کی سزا بھی شہریوں کو ملتی ہے اور جب ان کو جگایا جاتا ہے تو اس کی سزا اور پریشانیاں بھی شہریوں کے حصے میں آتی ہیں، مگر یہ کردار کبھی کیفر کردار تک نہیں پہنچتے، اس سنگین پہلو کو عدالتوں کو خاص طور پر مدنظر رکھنا چاہیے۔

The post جائیدادوں سے متعلق مسائل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DRuxch

پہلا قدم

جمعیت علمائے الاسلام (ف) کے سینیٹر حمداللہ اپنی شکل، صورت، طرز حیات اور انداز گفتگو سے ایک ٹھیٹ قبائلی نظر آتے ہیں اور دیکھنے میں وہ روایتی قبائلی دکھائی دیتے ہیں جو نہ صرف خود تعلیم یافتہ نہ ہوں بلکہ تعلیم کے دشمن بھی ہوں۔ مگر ان میں وہ تمام خوبیاں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک قبائلی میں ہوتی ہیں۔ سخت کوشی، دوربینی، صداقت اور جرأت اور اسی کے ساتھ ساتھ باریک بینی اور زندگی کے تجربات اور اس کی سختیوں کو انگیز کرنے کا حوصلہ۔

تعلیم والی بات تو ہم نے اس لیے کہہ دی کہ عام طور پر قبائلی عمائدین کے بارے میں ایسے تصورات عام ہیں، ورنہ یہ عمائدین زندگی کے وسیع تجربات کے حامل اور بڑے دوربیں ہوتے ہیں۔ سینیٹر حمداللہ ہمارے قانون سازوں میں ایک خاص اہمیت کے مالک ہیں۔ پچھلے دنوں ختم رسالت کے سلسلے میں جو ہنگامہ برپا ہوا وہ بظاہر سرکاری مشنری کی کسی سطح پر غلطی کے باعث تھا، مگر اس غلطی کی نشاندہی نہ تو سرکاری ممبران نے کی نہ ان کی جان کے دشمن اپوزیشن کے کسی لیڈر نے۔

ہمارے لیڈران سیاسی اختلافات کو مستقل ’’کُٹی‘‘ کا رنگ دینے میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ مگر اپوزیشن کے کسی ممبر نے بھی اس بل میں ترمیم کے مسئلے کی نشاندہی نہیں کی، ورنہ وہ تو ایک دوسرے کی بے توقیری کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ اس غلطی کی نشاندہی ایک مولوی نما، قبائلی الاصل ممبر سینیٹ نے کی۔ اور پھر اس پر طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ غلطی کی تصحیح کے بعد بھی زلزلے کے آفٹر شاکس اب بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

اب چند دن قبل امریکی سفارت خانے کے پولیٹیکل آفیسر گراہم فروسٹ نے سینیٹر حمداللہ سے ملنے کی درخواست کی۔ سارے سفارت خانے جس ملک میں کام کرتے ہیں، ان کے سیاستدانوں، اداروں، دانشوروں اور بااثر شخصیات سے باقاعدہ آگاہی رکھتے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ سے واقف ہوتے ہیں، ہمیں مسٹر گراہم فروسٹ کی حمداللہ جیسے سینیٹر سے ملنے کی خواہش کی وجہ تو نہیں معلوم، البتہ سفارتی انداز کار کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ ایک عالمی طاقت کا سفارت کار پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں پر گہری نظر رکھتا ہوگا اور اسے اندازہ ہوگا کہ حمداللہ کتنی باریک بینی کے حامل اور سیاسی تجربہ رکھنے والے قانون ساز ہیں اور ان سے ملنا کیوں ضروری ہے۔

ہوا یوں تھا کہ چند روز قبل خود حافظ حمداللہ اور چند دیگر ممبران سینیٹ نے امریکا جانا چاہا اور اس کے لیے ویزا کی درخواست کی۔ عام طور پر سینیٹ یا پارلیمنٹ کے ارکان کو کسی ملک کے سفر سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے، وہ ممبر متعلقہ ملک کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے ملک کے مفادات کے مطابق ملک کے مقتدر ادارے کا ممبر اور اس لیے دنیا کے دیگر ممالک کے لیے قابل احترام ہوتا ہے اور اسے آزادی سے نہ صرف ویزا ملتا ہے بلکہ ملک میں آزادانہ نقل و حرکت اور وہاں کے اداروں اور رائے عامہ کے کارساز اداروں میں اظہار خیال کی آزادی ہوتی ہے۔

مگر ہوا یہ کہ امریکی حکومت اور ٹرمپ انتظامیہ نے سینیٹ کے معزز ممبران کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ یہ پاکستانی عوام، پارلیمنٹ اور حکومت کے لیے انتہائی توہین آمیز اور غیر پارلیمانی رویہ تھا۔ شاید اسی کی وضاحت کے لیے مسٹر گراہم فروسٹ نے حافظ حمداللہ سے ملنے کی درخواست کی۔

حافظ حمداللہ نے سفارت خانے کے پولیٹیکل افسر کی اس درخواست کا تحریری جواب دیا اور انھیں لکھا کہ پاکستانی سینیٹرز کو ویزا نہ دینا پاکستانی قوم کے لیے بے عزتی کا باعث بنا تھا اور اس وقت امریکی رویہ انتہائی تضحیک آمیز تھا، اس لیے جب تک امریکا اپنے اس رویے پر معافی مانگ کر اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا وہ کسی امریکی وفد یا سفارتی و انتظامیہ افسر سے ملاقات نہیں کریں گے۔

ادھر سینیٹ کے چیئرمین جو بڑے صاف ذہن کے مالک اور اپنی صاف گوئی کے لیے مشہور ہیں اور سیاسی امور میں دانشورانہ رویے کا اظہار کرتے ہیں، پہلے کہہ چکے ہیں کہ جب تک امریکی رویے پر ندامت کا اظہار نہیں کیا جاتا کسی امریکی وفد کو سینیٹ میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔

سینیٹر حمداللہ نے سینیٹ کے چیئرمین کی رولنگ کا حوالہ دینے کے علاوہ صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف رویے اور ان کی انتظامیہ کی اس کے مطابق کارکردگی پر سخت تنقید کی اور امریکا سے اپنے رویے پر نظرثانی کامطالبہ کیا۔

امریکا عالمی طاقت ہے بلکہ عالمی طاقتوں پر پہلے نمبر پر فائز ہے۔ وہ حیرت انگیز ایجادات کا حامل اور وسیع جنگی وسائل سے مالا مال ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ عالمی غنڈہ گردی یا دوسرے لفظوں میں بین الاقوامی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتا رہے اور اس کے کاسہ لیس دبکے بیٹھے رہیں۔ حمداللہ صاحب نے جرأت کرکے امریکا کو یہ یقین دلایا ہے کہ پاکستان ان کی شرائط پر زندہ رہنے کے لیے تیار نہیں۔

وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا

اب عالمی طاقتوں کی غراہٹ دوسروں کے لیے اتنی دہشت کا باعث نہیں رہی ہے اور مسلمانوں کا تو عقیدہ ہی یہی ہے کہ عالمی طاقت کوئی بھی ہو عالمی ہی نہیں کائناتی حکمرانی خدا کو زیب دیتی ہے اور اسی کی حکمرانی حق ہے، باقی جو ہے جادوگری۔

اب تک ہمارے سیاستدان امریکا کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے تھے مگر اب خدا خدا کرکے انھیں یقین ہو چلا ہے کہ دنیا کا کاروبار امریکا نہیں خدا چلا رہا ہے۔

مقصود یہ ہے کہ کسی ملک کو، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری تضحیک کرے یا ہم کو کم تر سمجھ کر وہ سلوک کرے جو نصف صدی قبل غلام ممالک کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ اب ہم اس نوعیت کی غلامی میں مبتلا نہیں اور اپنا راستہ خود بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکا پر بار بار اعتماد کرکے اور بار بار دھوکا کھا کر بھی ہم نے بہت کچھ سبق سیکھ لیا ہے۔

اب امریکا کو قدم اٹھانے سے قبل یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اسے قدم قدم پر حافظ حمداللہ جیسوں سے واسطہ پڑتا رہے گا۔ پہلا قدم اٹھا لیا گیا، اب سفر جاری رہے گا۔

The post پہلا قدم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2rWiOr7

روحانی والدین کی تلاش

کتاب کھلی تو اکبر الٰہ آباد کی اس رباعی پر نظر پڑی، کہتے ہیں:

تم شوق سے کالج میں پھلو، پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو، چرغ پہ جھولو

بس ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اﷲ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

یہ رباعی یقیناً اکبر الٰہ آباد نے نوجوانوں کو مخاطب کرکے کہی ہے۔ بات بہت مناسب ہے، جو اس وقت کے نوجوانوں کے اطوار دیکھتے ہوئے شاعر کے دل سے نکلی تھی، لیکن آج بھی یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے فٹ بیٹھتی ہے۔

آج ہمارے نوجوان تعلیم کو جزوی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں کو کلی طور پر اختیار کرتے ہوئے نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ کی صورت پیدا کررہے ہیں، یہ رجحان جسے خدا جانے ہم کون سی راہ کہیں، عجیب سی صورتحال سامنے لارہا ہے۔

جذباتی ہیجان خیزی، بے ترتیبی ڈسپلن کا فقدان، غیر ذمے دارانہ رویہ عادات میں شامل ہوتا جارہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام حماقتی رویوں کو ماڈرن اسلوب کا نام دے کر اسے اہمیت نہیں دی جارہی، جدید طرز کے موبائل فونز نے ویسے ہی چڑچڑے پن، تنہائی پسندی اور خودغرضی کے جراثیم پیدا کر رکھے ہیں۔ رہی سہی کسر ہمارے اطراف کے خودغرضانہ ماحول نے پوری کردی ہے۔ اب کس کو مورد الزام ٹھہرائیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا اور سب ایک ہی حمام میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں کے پی کے میں شبقدر کے ایک نجی کالج کے پرنسپل کو جو حافظ قرآن بھی تھے، ان کے اپنے ہی کالج کے سیکنڈ ایئر کے طالب علم نے پستول سے فائر کرکے ہلاک کردیا۔ یہ کیسی روایت ہے، کیسا معاشرہ ہے، جسے ہم سب نے آہستہ آہستہ پروان چڑھایا ہے۔ اس کے ذمے دار محض اس طالب علم کے والدین ہی نہیں، میں اور آپ بھی ہیں۔ کیونکہ میں اور آپ بھی اسی معاشرے کے یونٹ کا ایک حصہ ہیں۔ پہلے خبر ملتی ہے کہ نوجوان اپنے پرنسپل کو ہلاک کرکے برملا اظہار کرتا ہے کہ اسے ان کے ہلاک کرنے پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ اس کی ناقص عقل کے مطابق اس کے استاد محترم جوکہ حافظ قرآن بھی تھے، نعوذباﷲ کسی طرح بے حرمتی کرنے کے مرتکب تھے۔

اس نوجوان کی عقل میں اتنا ہی سمایا تھا، اس کی ذہن کی عدالت میں بس اتنا ہی تحریر تھا کہ وہ صحیح ہے اور استاد غلطی پر ہیں۔ یقیناً وہ محترم غلطی پر تھے، کیونکہ انھیں احساس تھا کہ ان کا یہ شاگرد جو پہلے ہی تعلیمی کارکردگی میں خاصا کمزور رہا ہے، پورے تین دن تک کالج سے غیر حاضر رہا۔ گو قصہ تو اسی فیض آباد کے جلسے کا تھا لیکن والدین اور اساتذہ کی سرزنش بھی ضروری ہے کہ والدین کا تعلق اولاد سے جس انداز کا ہوتا ہے تو اساتذہ کا تعلق بھی روحانی حد تک ہوتا ہے، وہ اپنے طالب علموں کی روح کی بالیدگی کی نشوونما پر توجہ دیتے ہیں اور اگر وہ استاد پروفیسر صریر محروم جیسے محترم تھے کہ جن کی مذہبی عقیدت کا اظہار ان کے حافظ قرآن ہونے سے لگایا جاسکتا ہے، کیا کسی اور شہادت کی بھی ضرورت ہے اور یہ کہ انھیں اپنے آخری وقت میں جس طرح کلمہ شہادت تین بار پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی اس سے ان کے مذہبی جذبے کا پتہ چلتا ہے۔ کاش کہ ایسا دلخراش واقعہ نہ ہوا ہوتا۔

اس حادثے کی طرح ایک اور برا نمونہ حیدرآباد کے ایک انگریزی سکھانے والے ادارے میں پیش آیا، جب استاد نے ایک طالب علم کو اس کی بدتمیزی پر سرزنش کی تو موصوف نے نہ صرف برا منایا بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ادارے میں توڑ پھوڑ کی اور استاد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ کچھ ایسا ہی واقعہ کئی برسوں پہلے کراچی کے ایک سرکاری کالج میں بھی پیش آیا تھا، جب چند نوجوانوں نے اپنے ایک لیکچرار کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، اس حادثے میں ان صاحب کی دونوں آنکھیں ضایع ہوگئی تھیں۔ اچھے بھلے صحت مند، انتہائی سمجھ دار اپنے کام میں ماہر ایک استاد کی اس قدر بے قدری، خدا کی پناہ۔ وہ لیکچرار کام سی کے طالب علموں کو اپنے گھر پر ہی اکاؤنٹنگ پڑھانے لگے تھے۔ ذرا تصور کیجیے آنکھوں سے محروم اور اکاؤنٹنگ جیسا مضمون۔

ایک ریٹائرڈ استاد اور ماہر ہومیو پیتھک ڈاکٹر جو اب خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اپنے مریضوں کو مفت بنا کسی فیس کے دیکھتے ہیں اور دوائییں دیتے ہیں، معاشرے میں پھیلنے والی ابتری کا ذمے دار اسی زمانے میں بسنے والے لوگوں کو قرار دیتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ ہم خود اپنے بچوں میں پیدا ہونے والی اخلاقی برائیوں کے ذمے دار ہیں۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں، انھیں جس طرح تربیت دو گے وہ اسی طرح پلیںگے، ہم اپنے بچوں کو بڑوں کو پٹر پٹر جواب دیتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو کتنا جینئس ہے، کیسے فرفر جواب دے رہا ہے، بجائے اس کے کہ اس کے ایک تھپڑ رسید کریں یا تنبیہہ کریں کہ اس طرح بڑوں کو جواب نہیں دیتے۔

ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا تین چار سال کا بچہ موبائل فون پر انگلیاں مار مارکر کھیلتا ہے، ہم کہتے ہیں نئے دور کی پیداوار، پھر کچھ برسوں بعد ہمیں زمانے سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے کہ کیا کریں زمانہ بڑا خراب ہے۔ بھئی کیسے خراب ہے۔ یہی زمین ہے، یہی آسمان ہے، آج بھی اسی طرح شکل و صورت کے انسان ہیں جیسے پچاس ساٹھ برس پہلے کے تھے، پھر یہ خرابیاں کیسے پیدا ہوئیں۔ دراصل ہم اپنی اولاد میں بدتمیزیاں، بداخلاقیاں، بدتہذیبی منتقل کرنے کے سزا وار ہیں۔

لالچ، حرص اور حسد نے آج کے انسان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے، ہم اپنی اولاد کی اصل ذمے داری کو پس پشت ڈال کر خود کمائی جمع کرنے پر لگ گئے ہیں۔ گریڈ ون سے لے کر اعلیٰ درجے تک کے افسران کو دیکھ لیں، سب کرپشن میں مبتلا ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک سے نہیں بگڑا، بلکہ اسے آہستہ آہستہ ہم سب نے مل کر بگاڑا ہے۔ شبقدر میں ہونے والے اس واقعے نے ہر ایک ذی شعور انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ بات اب اس قدر آگے نکل چکی ہے کہ ہمارے بچے اپنے اساتذہ پر پستول بھی تان رہے ہیں۔

وہ ایک نہایت بوڑھی خاتون تھیں، بینک کی خاتون افسران سے بات چیت کررہی تھیں، ان کے ہمراہ ان کی صاحبزادی بھی تھیں، جب وہ خاتون فارغ ہوئیں تو ان کی جگہ ایک صاحب آکر بیٹھے، خاتون افسر نے ان صاحب سے بات شروع کی، اتنے میں وہی بوڑھی خاتون کسی کام سے دوبارہ بینک کی خاتون افسر کے نزدیک آئیں۔

’’میڈم کیا آپ فلاں مس ہیں‘‘ ان صاحب نے اپنی کرسی سے کھڑے ہوتے بڑی محبت اور عقیدت سے پوچھا۔ بوڑھی خاتون مسکرائی، ’’جی ہاں میں وہ ہی ہوں‘‘۔

’’مس! آپ نے مجھے پہلی کلاس میں پڑھایا تھا‘‘ ان صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ ’’اچھا اچھا، میں بھی پہچان گئی تھی کہ میرا ہی بچہ ہے‘‘ بزرگ خاتون کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی تھی جس میں فخر و انبساط کے جذبات بھی پنہاں تھے کہ یہ میرا طالب علم ہے۔ ’’اور مس! آپ کیسی ہیں، ٹھیک ٹھاک تو ہیں‘‘۔ ’’ہاں بیٹا! شکر ہے خدا کا‘‘ وہ بزرگ خاتون اپنے سابقہ طالب علم کو دعائیں دیتی بینک سے رخصت ہوگئیں۔ ایک سوال کیا ہمارے نوجوان اپنے اساتذہ سے ایسی دعائیں سمیٹ سکیں گے؟ کیا استاد اور طالب علم کے بیچ روحانی والدین کا رشتہ پھر سے قائم ہوسکے گا؟

The post روحانی والدین کی تلاش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2GyJCRF

ہیلن کیلر کون تھی؟

ماضی کی نسبت موجودہ دور میں بچوں کے رسائل اور ان کے لیے لکھنے والوں ادیبوں کی کمی شدت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ والدین کو یہ شکایت ہے کہ ان کے بچے کتابوں کے لیے وقت نکالنے کے بجائے اپنے قیمتی روزوشب کمپیوٹر پر بیٹھ کر سوشل میڈیا کی نذرکررہے ہیں، مگر اب بھی ایسے بچوں کی کمی نہیں جوکتابوں کے سہارے اپنی درس گاہوں سے بہترین نمبروں کے ساتھ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ہاں یہ ضرورہوا کہ ماضی کی نسبت موجودہ دور میں لائبریریاں نہ ہونے کے برابر ہیں جہاںکتابوں سے محبت کرنے والے بچے اور بڑے معمولی سی ممبر شپ کے بدلے اچھی اور نئی کتابیں با آسانی پڑھ سکتے تھے۔

اردو زبان میں چھپنے والے بچوں کے اہم رسائل میں’نونہال‘ اور ’تعلیم و تربیت‘ نے جہاں بچوں کی تربیت میں بھر پور کردار ادا کیا وہاں بچوں کے کئی دیگر رسائل اب بھی ملک کے بڑے بڑے بک اسٹالز پر نظر آ ہی جاتے ہیں، لیکن بچوں کو ان کی طرف راغب کرنا والدین اور اساتذہ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان کی دوسری زبانوں پر نظر ڈالی جائے تو سوائے سندھی زبان میں چھپنے والے رسائل کے پشتو اور بلوچی زبان میں بچوں کے رسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ہاں لاہور سے اشرف سہیل کی ادارت میں پچھلے تیئس سال سے پنجابی زبان میں بچوں کے لیے ’’پکھیرو‘‘ نامی رسالہ اپنی اشاعت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے جس سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ اردو کی طرح ملک کی دوسری زبانوں میں بھی اگر بچوں کے رسائل پر توجہ دی جائے تو بچوں کا ایسا حلقہ وجود میں آسکتا ہے جو اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ دنیا کی مشہور شخصیتوں کے کارناموں اور ان کے بچپن سے بھی واقف ہوسکتا ہے۔

عام بچوں کی تعلیم و تربیت کے مسائل تو اپنی جگہ مگر ایسے بچوں کے بارے میں سوچیے جو پیدائشی طور پر دیکھنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہوں یا بعد میں پیش آنے والے کسی حادثے کی وجہ سے اپنی قوت بصارت اور سماعت کھو بیٹھے ہوں ۔ ذہنی اور جسمانی معذوری کا شکار بچوں کے لیے یوں تو ملک میںچند ایسے ادارے موجود ہیں جہاں بچوں کی تعلیم کا مناسب انتظام کیا جاتا ہے، مگر ایسے اداروں کی اب بھی کمی محسوس کی جا تی ہے جو جدید تعلیم سے آراستہ سائنسی بنیادوں پر معذور بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا انتظام کرسکیں۔ بہت سارے معذور بچے اپنے والدین کی بے خبری اور نا سمجھی کی وجہ سے ایسے اداروں تک نہیں پہنچ پاتے، جہاں ان کی زندگی میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی جاسکے جس کی وجہ سے وہ پوری زندگی اسی معذوری میں بسر کردیتے ہیں ۔

والدین کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہترانتظام کریں تو وہ امریکا میں پیدا ہونے والی ہیلن کیلر کی طرح پوری دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا گرویدہ بنا سکتے ہیں۔

ہیلن کیلر دو سال کی عمر میں دیکھنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی تھیں لیکن ان کے گھر والوں نے ان کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ایسی استانی کا انتظام کیا جو ان کی زندگی میں بہار بن کرآئی اور وہ معذورلڑکی جس کی زندگی میں سوائے اندھیرے کے کچھ بھی نہیں تھا، ایک ایسی پڑھی لکھی ماہر تعلیم، سماجی کارکن اور مصنفہ کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی جس نے اپنی صلاحیتوں سے اس بات کو جھوٹ ثابت کردیا کہ سماعت اور بصارت سے محروم افراد دوسروں کے سہارے زندہ رہنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ گیر تھامپسن کا شمار امریکا کے ایسے مصنفین میں ہوتا ہے جو تھیٹرکے ساتھ وابستگی کے علاوہ ، میڈیا اور تعلیم کے مختلف شعبوں پر بھی کتابیں تحریرکرچکے ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ ایک ماہر تعلیم ہیں مگر بچوں کے لیے کتابیں تحریر کر نا بھی ان کی دل چسپی میں شامل ہے۔

Who was Helen keller ?کے عنوان سے معروف امریکی مصنفہ ہیلن کیلر پر لگ بھگ بارہ برس قبل ان کی ایک مختصر سی کتاب سامنے آئی تھی جس میں ہیلن کیلر کی پیدائش، ابتدائی زندگی، بیماری اور معذوری سے لے کر حصول تعلیم اور بول چال تک کے تمام مراحل کو انتہائی سادہ انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ اس کتاب میں ہیلن کیلر کی زندگی اور جد وجہد کو اس انداز سے سامنے لایا گیا ہے کہ پڑھنے والوں میں ہمت، حوصلے اور جینے کی خواہش بیدارہوتی ہے۔

ڈاکٹر کرامت مغل نے پاکستانی بچوں کو ہیلن کیلر سے متعارف کروانے کے لیے اس کتاب کا نہ صرف شان دار ترجمہ کیا ہے بلکہ انتہائی خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ اسے چھاپ کر کتابوں سے محبت کرنے والوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

ڈاکٹرکرامت مغل کا شمار ایسے ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انگریزی کی بہترین کہانیوں کو پنجابی میں ترجمہ کیااور جدیدتنقیدی رویوں کا ساتھ نبھاتے ہوئے مختلف تخلیقات پر انتہائی مدلل انداز میں تنقیدی مضامین بھی تحریرکیے، لیکن ان کی اس سے بھی بڑی پہچان ان کی تحریر کردہ کہانیاں ہیں جن میں ہمارے معاشرے کی سماجی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ اس صدی کے انسانوں کی انفرادی آزادی کے مسائل کو بھی انتہائی بہترین ڈھنگ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر کرامت مغل نے ہیلن کیلرکی زندگی اور کارناموں پر مبنی اس کتاب کا ترجمہ جس سادہ اور دل چھو لینے والے انداز کیا ہے، اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پڑھنے والے اس کتاب کو کسی بہترین تحفے سے کم نہ پائیں گے۔ کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بچوں کے لیے تحریر کی گئی ہے لیکن پڑھتے وقت کہیں بھی اس بات کا گمان نہیں ہوتا کہ بڑی عمرکے افراد اس سے استفادہ نہیںکرسکتے ۔

دوسری اہم بات یہ ہے اس سے قبل ہیلن کیلر کی زندگی کے بارے میں ہماری نظروں سے جو چیدہ چیدہ مضامین گزرے ہیں، ان میں کچھ تضادات کے ساتھ سنی سنائی اور سطحی تحقیق کا بھی اشارہ ملتا ہے مگر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہیلن کیلر کی پوری زندگی کو انتہائی اچھے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔

The post ہیلن کیلر کون تھی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2rVBdV9

صد سالہ مقدمے کا تاریخی فیصلہ

بعض خبریں اپنی نوعیت میں منفرد و یکتا اور حیران کن ہوتی ہیں، وہیں نظام کی بوسیدگی اور شکستگی کو بھی ظاہر کرتی ہیں ۔ سپریم کورٹ نے خیرپور ٹامیوالی کے ایک سو سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے  پانچ ہزار چھ سوکنال اراضی شریعت کے مطابق ورثا میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے ۔

یہ مقدمہ تقسیم ہند سے قبل 1918سے شروع ہوا ، پھر پاکستان کی نجی عدالتوں میں کئی دہائیوں تک زیرگردش رہا، سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ 2005ء میں آیا ۔ سپریم کورٹ نے تیرہ سال بعد کیس کا فیصلہ سنایا۔کیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا فیصلہ ہے جس میں اتنی تاخیر ہوئی ہے ہرگزنہیں۔

ہمارے ہاں تو کہا جاتا ہے ، دادا کا کیس عدالت میں جائے اور اگر پوتے کو انصاف مل جائے تو بڑی بات ہے ، ورنہ نسلیں فیصلے کا انتظارکرتے کرتے زیرزمین چلی جاتی ہیں۔ چار بھائیوں کے قتل کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے قراردیا کہ دونوں ملزمان بے گناہ ہیں جب وکیل سپریم کورٹ کے آرڈر لے کر جیل پہنچا تو پتہ چلا ان بے گناہوں کو تو پھانسی دی جا چکی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اس وقت عدالتوں میں لاکھوں کیسز سماعت کے منتظر ہیں یا ان کی سماعت انتہائی سست روی سے جاری ہے۔ سائلین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ مقدمات کے بروقت فیصلے نہ ہونے کے باعث ملزموں اور مجرموں کو کھلی آزادی مل گئی ہے اور انھوں نے معاشرے میں جنگل کا قانون لاگوکردیا ہے کیونکہ اول تو قاتل، چور، ڈکیت پکڑے نہیں جاتے اور پکڑے بھی جائیں تو وہ عدالتی نظام میں پائے جانے والے سقم سے فائدہ اٹھا کر پہلے چند روز میں ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں اور پھر مقدمے کے مدعی کو ڈرا دھمکا کر رہا ہوجاتے ہیں یا پھر مقدمہ اتنا طویل ہوتا ہے کہ اس کے عینی شاہدین اور گواہ یا تو دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں یا پھر اپنے موقف سے ہٹ جاتے ہیں۔

یہ بھی بہت بڑا سچ ہے کہ ہمارے یہاں ماتحت عدالتوں میں ججز کی تعداد مقدمات کے تناسب سے انتہائی کم اورعدالتوں کے اوقات کار بھی بہت کم ہیں۔ ماضی میں ڈبل شفٹ میں عدالتی کارروائی جاری رکھنے کی تجاویز آئی تھیں لیکن بدقسمتی سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ پورا سچ تو یہ ہے کہ ہمارے عدالتی نظام میں بے شمارخامیاں پائی جاتی ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ انصاف میں تاخیر، انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔

The post صد سالہ مقدمے کا تاریخی فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2GAt8Z2