Subscribe

Theme images by Storman. Powered by Blogger.

About

Top Ad 728x90

Top Ad 728x90

Featured Post Via Labels

Top Ad 728x90

Featured Slides Via Labels

Featured Posts Via Labels

More on

Popular Posts

Blog Archive

Popular Posts

Follow us on FB

Thursday, 1 February 2018

وزیراعظم شہباز شریف؟

حال ہی میں بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ مسلم لیگ ن کیلئے ایک جھٹکا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ’’کنگ میکرز‘‘کی طرف سے تنبیہہ بھی کہ تم باز نہ آئے تو ہم ’’چڑیوں سے بھی باز مروا سکتے ہیں۔‘‘ یہ ن لیگی قیادت کی آنکھیں کھولنے کیلئے بھی کافی ہے جنہوں نے ایک ہی رات میں پارٹی کھو دی اور ن سے ق اقتدار پر قابض ہوگئی۔ کہنے کو تو ن لیگ کہتی ہے کہ موجودہ بلوچستان کابینہ میں 11 وزیر اس کے ہیں لیکن’’وہ‘‘ بھی ایسے ہی اپنے ہیں جیسے سندھ کا غوث علی شاہ، پنڈی کا چودھری نثار اور پنجاب کے ایسے بے شمار ایم این ایز اور ایم پی ایز جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر آئے ہیں۔

یہ کوئی پہلی بار مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں ہورہا، ایسا ایک بار پنجاب اسمبلی میں 90 کی دہائی میں ہوا تھا. یہ حقیت ہے کہ پی ایم ایل بلوچستان میں سینٹ الیکشن دو ماہ قبل ہی تقریباً ہار چکی ہے، مارچ میں ہونے والے نتخابات میں یہ پہلے ہی وہ گیارہ سینیٹرز ہارچکی ہے جنہیں منتخب ہونا تھا. اب اگلے انتخابات کون جیتے گا اور اگر اگلی حکومت بنی تو کون بنائے گا؟ عمران خان ’’پْراعتماد‘‘ ہیں کہ ان کی پارٹی اگلی حکومت بنائے گی جب کہ آصف علی زرداری آئندہ وزیراعظم کےلیے بلاول بھٹو کی پیش گوئی کرچکے ہیں۔ رہی مسلم لیگ ن تو اس نے خادم اعلیٰ پنجاب کو خادم اعظم بنانے کےلیے نامزد کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ پاکستان کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے پائیں گے یا پنجاب کی خدمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

ماضی میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا رہا، کیسے حکومیتں بنیں، کون سلطان بنا اور کون انتخابی دنگل سے باہر ہوا۔ 1970 میں پہلی بار پارٹی بنیاد پر ایک شخص- ایک ووٹ کے فارمولے کے تحت انتخابات کا انعقاد ہوا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلز پارٹی، پی پی پی جس نے مغربی پاکستان میں انتخابات جیتے تھے انھوں نے حکومت بنائی، 1977 میں دھاندلی کے الزامات کے باعث انتخابات کو کالعدم قراردے دیا گیا اور مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔

1985ء میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد ہوئے لیکن انتخابات سے پاکستان مسلم لیگ کا جنم ہوا اور محمد خان جونیجو وزیراعظم بن گئے، ان کی حکومت کالے قانون 2-58 (B) کے تحت ختم کردی گئی اور طویل مدت تک حکمرانی کرنے والے جنرل ضیاء الحق کی موت تک انتخابات نہیں کرائے گئے۔ 1988 میں دوبارہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے اور پی پی پی انتخابات جیت گئی اور عبوری حکومت نے اقتدار انہیں منتقل کردیا۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں لیکن 1990 میں صرف 22 ماہ کے اندر ہی اسی قانون کے تحت ان کی حکومت بھی برطرف کردی گئی اور نئے انتخابات کرائے گئے۔ 1990 میں پی ایم ایل (ن) کو فاتح قرار دیا گیا اور پہلی بار میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب سے وزیراعظم بن گئے۔ 1993 میں ان کی حکومت بھی اسی کالے قانون کا شکار بن گئی اور ایک اور عبوری حکومت کی نگرانی میں انتخابات کرائے گئے۔ 1993 میں پی پی پی دوبارہ اقتدار میں آگئی اور بے نظیربھٹو دوسری بار وزیر اعظم بن گئیں لیکن انھیں بھی اْسی بحران کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی نکلا۔ 1996 میں ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے کئی ہفتوں بعد مرحوم صدر فاروق لغاری نے اْسی قانون B) 58-2)کے تحت انھیں برطرف کردیا۔ 1996 میں عبوری حکومت کے تحت ایک اور الیکشن کرائے گئے اور پہلی بار پی ایم ایل (ن) نے دوتہائی اکثریت حاصل کی جب کہ قومی اسمبلی میں پی پی پی کی 18 سیٹیں رہ گئیں۔ پھر آیا 12 اکتوبر 1999 جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جنرل (ر) پرویز مشرف کی برطرفی اور جنرل ضیاء الدین بٹ کی تعیناتی کے بعد فوج نے اقتدارسنبھال لیا، فوج مشرف کی وفادار رہی اور نواز شریف کو گھر بھیج دیا گیا۔ 2002 میں ایک اور الیکشن ہوئے لیکن پہلی بار بینظیر بھٹو اور نواز شریف مائنس ہوئے۔ پیپلز پارٹی واحد بڑی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن مشرف کی زیرقیادت حکومت نے اقتدار اْن کے حوالے نہیں کیا، اس کی بجائے ایک نئی پارٹی پی ایم ایل (ق) بنائی گئی اور ظفراللہ خان جمالی وزیراعظم بن گئے۔

مشرف کے دورِ حکومت کے دوران جمالی کو شوکت عزیز سے بدل دیا گیا۔ 2007 میں مشرف نے نئے انتخابات کرائے جو بے نظیر بھٹو کی شہاد ت کے بعد 2008 میں منعقد ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں فتح حاصل کی اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے جبکہ آصف علی زرداری صدر بن گئے، مشرف نے اقتدارچھوڑدیا۔1970 کے بعد 2013 میں پہلی بار کسی جماعت نے مکمل مدت پوری کی اور حکومت اور اپوزیشن کی رضامندی سے انتخابات عبوری حکومت کے تحت منعقد ہوئے۔ پی ایم ایل (ن) نے انتخابات میں فتح حاصل کی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے۔ اب پی ایم ایل (ن) اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے اور انتخابات شیڈول کے مطابق جولائی 2018 میں منعقد ہوں گے اور اگر ہم مذکورہ بالا رجحان کودیکھیں تو یہ واضح ہوگا کہ وجہ جو بھی ہو، کسی بھی پارٹی نے مسلسل دو بار انتخابات نہیں جیتے۔

لیکن برطانوی جریدہ ‘دی اکانومسٹ’ اس حقیقت کی نفی کررہا ہے۔ اس کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کے کامیاب ہونے کا امکان ہے، لیکن شریف خاندان پر کرپشن کے الزامات اور معاشی عدم استحکام کا الیکشن نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے اور عام انتخابات تک سیاسی استحکام کو بہت زیادہ خطرات رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چونکہ پنجاب میں بہت اچھے کام کیے ہیں، لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات تاحال ان کا پیچھا کررہے ہیں۔ شہباز شریف نے جس طرح ’’اسپیڈ پنجاب‘‘ کا اعزاز اپنے نام کیا ہے جس کے معترف چین اور ترکی جیسے ملک ہیں، باقی صوبوں کے عوام بھی ایسی ہی ترقی کے خواہش مند ہیں، وہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے صوبے میں شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ ہو۔ بڑے بھائی اور ان کی اولادوں کی ’’بد اعمالیوں‘‘ کی سزا تو شہباز شریف کو مل سکتی ہے، وفاق میں کیے گئے ’’گناہ‘‘ تو ان کے کھاتے میں ڈالے جاسکتے ہیں، لیکن ان کی اپنی پوزیشن بظاہر کلیئر نظر آرہی ہے۔ کیونکہ ان کا سارا کاروبار ملک میں ہے، ان کے بچے پاکستان میں ہیں، حدیبیہ کیس کا باب بند ہوچکا ہے، مخالفین کو ملتان میٹرو کیس سے کچھ ملا نہیں، بندوق والوں کے ہاں نواز شریف کی نسبت یہ قابل قبول بھی ہیں۔

رہی اپوزیشن، تو خوب واویلا کرے گی جس کا اندازہ حالیہ احتجاج در احتجاج، اپوزیشن اور مذہبی پریشر گروپوں کی طرف سے تحریکوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ سلسلہ الیکشن تک چلتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کے مخالفین کے سوا ان کے نامہ اعمال میں کچھ نہیں جس کو بنیاد بنا کر انتخابی مہم چلائی جاسکے۔ اپوزیشن کی اس مہم کا خلق خدا نے بہت اثر لیا ہے عام ووٹر بھی ’’شریفوں‘‘ کو ملزم نہیں مجرم سمجھنے لگا ہے۔ پانامہ کیس سے زیادہ ختم نبوت کے معاملے نے ان کی ساکھ تباہ کرکے رکھ دی ہے۔

ایسی صورتحال میں جہاں شہباز شریف کا وزیر اعظم بننا سوالیہ نشان ہے وہیں عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری بھی ’’کسی ‘‘ کے رحم کرم پر ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post وزیراعظم شہباز شریف؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2GAvSG9

No comments:
Write comments