Subscribe

Theme images by Storman. Powered by Blogger.

About

Top Ad 728x90

Top Ad 728x90

Featured Post Via Labels

Top Ad 728x90

Featured Slides Via Labels

Featured Posts Via Labels

More on

Popular Posts

Blog Archive

Popular Posts

Follow us on FB

Monday, 19 February 2018

بھارتی پارلیمنٹ میں گائے کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا بل پیش

نئی دلی: بھارتی وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے ملک بھر میں لاکھوں گائیں کو شناختی کارڈز جاری کرنے کے حوالے سے لوک سبھا (ایوان زیریں) میں بل پیش کردیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مودی سرکار نے گائے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے انہیں شناختی کارڈز اجرا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں بھارتی وزیرِخزانہ ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں بل پیش کیا ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ مالی سال میں منصوبے کے تحت 40 لاکھ گائے کے شناختی کارڈز کی مد میں 45 کروڑ 17 لاکھ ( 70 لاکھ امریکی ڈالر) مختص کئے جائیں۔ مجوزہ منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 40 لاکھ مویشیوں کو 12 عددی شناختی نمبر جاری کئے جائیں گے اور اسکیم کامیاب ہونے کی صورت میں ملک کی 30 کروڑ گائے بھینسوں کی نگرانی کے لیے مزید فنڈ بھی مختص کیے جائیں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: پاکستان میں جانوروں کے بھی شناختی کارڈ بنانے کا فیصلہ

ارون جیٹلی کے پیش کردہ بل میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ منفرد شناختی نمبر دینے کا طریقہ کار ’آدھار‘ نامی قومی شناختی کارڈ اسکیم جیسا ہی ہوگا، منصوبے کی کامیابی کے بعد ملکی مویشیوں کا پتہ رکھا اور انہیں اسمگل ہونے سے بچایا جا سکے گا جب کہ لاوارث گائے بھینسوں کے لیے خصوصی مراکز بھی قائم کئے جائیں گے۔

دوسری جانب لوک سبھا میں پیش کئے گئے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ناقدین میں ناصرف مسلمان بلکہ اقلیتی رہنما بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک کو ترجیحی طور پر پہلے حل کیے جانے والے سماجی و اقتصادی مسائل کا سامنا ہے، حکومت نے غلط ترجیحات اپنا رکھی ہیں،  گائے کی حفاظت کے بہانے اس منصوبے کو ملک کی محروم برادریوں اور اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ صرف الزام تراشی اور ایذا رسانی کا ذریعہ بن جائے گا۔ آنے والے سالوں میں اقلیتوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں مزید بڑھ جائیں گی۔

 

The post بھارتی پارلیمنٹ میں گائے کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا بل پیش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2EDPagk

No comments:
Write comments