Subscribe

Theme images by Storman. Powered by Blogger.

About

Top Ad 728x90

Top Ad 728x90

Featured Post Via Labels

Top Ad 728x90

Featured Slides Via Labels

Featured Posts Via Labels

More on

Popular Posts

Blog Archive

Popular Posts

Follow us on FB

Friday, 26 January 2018

انتظار قتل کیس؛ جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں مدیحہ کیانی کا بیان ریکارڈ

کراچی: ڈیفنس میں اے سی ایل سی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے نوجوان انتظارکیس کی جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں  مدیحہ کیانی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق ایس ایس پی سی ٹی ڈی انٹیلی جنس پرویزچانڈیو کی سربراہی میں انتظارقتل کیس کی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ جے آئی ٹی میں ایم آئی، آئی ایس آئی، آئی بی سمیت دیگر افسران شریک تھے۔ انتظار کے والد جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کروانے کیلیے پہنچے لیکن ان کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔ مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میرا بیان ریکارڈ نہیں ہوا وکیل نے بریفنگ دی،اس کے علاوہ ان کے وکیل نےانہیں میڈیا سے بات کرنے سے بھی روکا جب کہ جے آئی ٹی نے  مدیحہ کیانی کا بھی بیان ریکارڈ کیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: فرانزک رپورٹ منظرعام پرآگئی

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ جے آئی آٹی مقدس حیدر کا قتل میں ملوث پانا اور خاتون سے رابطے پر تحقیقاے کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اب تک کی تحقیقات میں انتظار کو قتل کرنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم جے آئی ٹی مقتول انتظار کے قتل کی اصل وجہ کی بھی تحقیقات کرے گی۔

گزشتہ روز سی ٹی ڈی نے انتظار قتل کیس میں شامل مدیحہ کیانی کے موبائل کے کال ڈیٹا ریکارڈ اور ایس ایس پی مقدس حیدر کے پستول کی فرانزک مکمل کرلی تھی جس کے مطابق ایس ایس پی کا پستول انتظار قتل کیس میں استعمال نہیں ہوا، جب کہ مدیحہ کیانی کے کال ڈیٹا میں مقدس حیدر کی کوئی کال نہیں اور میسجز میں بھی عام سی گفتگو کی گئی تھی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: مدیحہ کیانی کچھ چھپا رہی ہے

واضح رہے کہ 13  جنوری کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اے سی ایل سی کے اہلکاروں فائرنگ سے 19 سالہ انتظار حسین جاں بحق ہوگیا تھا۔ انتظار کے والد اشتیاق احمد کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں، مجھے لگتا ہے میرے بیٹے کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

The post انتظار قتل کیس؛ جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں مدیحہ کیانی کا بیان ریکارڈ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2EexDbj

No comments:
Write comments