Subscribe

Theme images by Storman. Powered by Blogger.

About

Top Ad 728x90

Top Ad 728x90

Featured Post Via Labels

Top Ad 728x90

Featured Slides Via Labels

Featured Posts Via Labels

More on

Popular Posts

Blog Archive

Popular Posts

Follow us on FB

Monday, 5 February 2018

رابطہ کمیٹی نے اجلاس بلا کر پارٹی آئین کی خلاف ورزی کی، فاروق ستار

 کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے ارکان نے میرے منع کرنے کے باوجود اجلاس منعقد کرکے پارٹی کے آئین کی خلاف ورزی کی۔

پی آئی بی مرکز پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ میں یہاں موجود رابطہ کمیٹی کے اراکین ، ارکان اسمبلی اور تنظیمی عہدے داروں وکارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ منظم ہو کر یہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا جیسے ہی رہنماؤں اور کارکنوں کو خبر ملی کہ فاروق ستار آزمائش میں ہیں تو وہ سب دوڑے چلے آئے۔

فاروق ستار نے کہا کہ  یہ آزمائش ہے یا سازش میں کچھ نہیں کہہ سکتا،  رابطہ کمیٹی کے کچھ اراکین نے ابھی جو پریس کانفرنس کی ہے وہ تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے اور بڑی خلاف ورزی انہوں نے یہ کی کہ انہوں نے میری اجازت اور منع کرنے کے باوجود بہادر آباد پر اجلاس بلایا، آج کارکنوں کا یہ اجلاس بھی فیصلہ کرے گا یہ پارٹی کے دستور کے مطابق غیر آئینی اجلاس ہے یہ اجلاس منعقد ہو ہی نہیں سکتا اگر میں منع کردوں۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں رابطہ کمیٹی کے ارکان اور ارکان اسمبلی یہاں موجود ہیں، کارکنوں سے فیصلہ لینا چاہتا ہوں کہ آ پ کو بااختیار سربراہ چاہیے یا بے اختیار ڈمی سربراہ، اگر ایسا ہی ڈمی سربراہ بنانا ہے تو مجھے یہ سربراہی منظور نہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ رہنماؤں کو دھوکا دے کر میرے نام سے بہاد آباد پر بلایا گیا،  جس بات کو ایشو بنایا جارہا ہے وہ اصل ایشو نہیں ہے، 15 ماہ سے مجھے ہر فیصلہ کرانے میں لوگوں کی منت سماجت کرنی پڑے تو کیسی سربراہی؟ اگر آپ لوگوں کو کوئی اور سربراہ منتخب کرنا ہے تو بتادیں۔

اس موقع پر وہاں موجود کارکنوں نے فاروق ستار کے حق میں نعرے باز ی کی بہاد آباد میں اجلاس کرنے والے رابطہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف شرم کرو ڈوب مرو کے نعرے لگائے۔

خبر مزید اپ ڈیٹ کی جارہی ہے

The post رابطہ کمیٹی نے اجلاس بلا کر پارٹی آئین کی خلاف ورزی کی، فاروق ستار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2nMkjTA

No comments:
Write comments